قبر زہرا پے بپا ہے اک قیامت کا سماں
(ثانی)
جو دیا اجر رسالت آج تک بھی ہے عیاں
(1)
باپ کی دستار پہنے باپ کے دربار میں
ہے کھڑی بنتِ پیمبر غاصبوں کے درمیاں
(2)
حشر تک روتی رہے گی ہاتھ پہلو پے لیے
جا بجا فرشِ عزا پر مالک جنت کی ماں
(3)
اے مسلمانوں بتاؤ کیا ہوا دربار میں
ہوگئی پل میں ضعیفہ وارث کون و مکاں
(4)
ہو گئی محروم حق سے یوں حجاب کبریا
یہ ستم لفظوں میں یوں شاہد ہو نہیں سکتا بیاں
کلام ملک شاہد
Comments
Post a Comment